صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
بدھ 28 اکتوبر 2020 

ایمان کی حلاوت

مولانا رضوان اللّٰلہ پشاوری | پیر مارچ 2020 

حضرت انس رضی اللّٰلہ عنہ نے نبی کریم صل اللّٰلہ علیہ والہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صل اللّٰلہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔ اول یہ کہ اللّٰلہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں ، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللّٰلہ کی رضا کے لیے محبت رکھے ، تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے ۔ (صحیح البخاری)
حلاوت ایمان سے مراد وہ شرح صدر ہے اور اطمینان ہے جو ایک مومن ہی کو نصیب ہوتا ہے محض کلمہ گوئی اور زبانی اقرار رکھنے والا شخص ایمان کی اس مٹھاس سے ہمیشہ عاری رہتا ہے ۔ حلاوتِ ایمان کے لیے مذکورہ حدیث میں مومِن کی تین خصلتیں یعنی عادات بیان کی گئی ہیں۔اول یہ کہ اس کی اولین ترجیح اللّٰلہ رب العزت اور اس کے رسول کی محبت ہوتی ہے جس کا لازمی تقاضا اطاعت اور عملی تقلید کو اختیار کرنا ہے نیز اپنی تمام محبتوں اور نفرتوں کی اساس اللّٰلہ ہی کی محبت کو مقرر کر لینا ہے ۔
 ایک دفعہ حضرت علی کرم اللّٰلہ وجہہ نے ایک خودسر یہودی پر غلبہ پا کر اسے قتل کر نے کا ارادہ فرمایا۔ وہ یہودی پُشت کے بل زمین پر پڑا تھا اور آپ رضی اللّٰلہ عنہ اس کے سینے پر سوار تھے ۔ موت کو اس قدر یقینی طور پر قریب پا کر اُس یہودی نے حضرت علی رضی اللّٰلہ عنہ کے چہرہ¿ مبارک پر تھوک دِیا۔ آپ رضی اللّٰلہ عنہ نے اس گستاخانہ حرکت پر انتقام کے جذبے سے مغلوب ہو کر اُسے مار ڈالنے کے بجائے یہ کہہ کر معاف کر دِیا کہ اگر میں اس حالت میں تجھے قتل کر دیتا تو یہ میرا اور تمہارا ذاتی معاملہ بن جاتا جبکہ میں ہر کام صرف اپنے اللّٰلہ کی خوشنودی اور رضا کی خاطر کرتا ہوں ۔ آپ کے ایمان کی اس خصلت نے اُس یہودی کا پتھر دل موم کر دیا اور وہ فی الفور کلمہ¿ طیبہ کا ورد کرتے ہُوئے دین حق پر ایمان لے آیا ۔ یہی ایمان کی اس پہلی خصلت کی عملی مثال ہے ۔دوسری چیز صالحین کی صحبت اور جماعت کو مضبوطی سے پکڑنا ہے اور تیسری چیز یہ ہے کہ اپنے ایمان سے کسی بھی حالت میں متزلزل نا ہو ا جاے اور اس پر ثابت قدمی سے قائم رہے ۔ صرف یہی تین صورتیں ایمان کے اعمال پر اثر انداز ہونے کی وجہ بنتی ہیں ۔ ان کے بغیر شخصیت پر ایمان کا عملی تاثر نا ممکن ہے ۔
 اللّٰلہ اور اس کے رسول سے محبت:
حضرت انس رضی اللّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰلہ صل اللّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کے بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نا ہو جا¶ں(صحیح البخاری)مثلا دنیاوی محبتوں میں بہت بڑا درجہ والدین سے محبت اور ان کی اطاعت کو دیا گیا ہے لیکن جہاں ان کا حکم اللّٰلہ کے حکم سے ٹکرا جاے تو اللّٰلہ ہی کی اطاعت کو ترجیح دینا لازم و ملزوم ہو جاتا ہے چنانچہ تمام تر محبتوں کو اللّٰلہ ہی کی اتباع کے دائرے میں رکھنا کامل ایمان کے حصول کی شرط ہے ۔
 صالحین کی صحبت:
انس بن مالک رضی اللّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے پوچھا قیامت کب آے گی تو رسول اللّٰلہ صل اللّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا : اللّٰلہ اور رسول کی محبت ، آپ صل اللّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جس سے محبت کرتے ہو (روزِ قیامت)اسی کے ساتھ رہو گے ۔(صحیح مسلم)
اللّٰلہ کے لیے اس کے نیک بندوں سے محبت اللّٰلہ ہی کی محبت کا ثمرہ ہے اور دنیاوی و اخروی لحاظ سے یہ عمل غیر معمولی اہمیت کا حامِل ہے چنانچہ مومنین کے لیے یہ بھی ایمان کا ایک لازمی جز ہے اور دنیا میں بھی صالحین کی صحبت سے انسان کو نیک اعمال کی ترغیب اور آخرت کی یاد دہانی اور تعمیرِ شخصیت کے معاملات میں مدد ملتی ہے اور آخرت کی زندگی کے حوالے سے بھی قرآن میں کئی ایک مقامات پر انسان کا انجام انہی لوگوں کے ساتھ ہونے کی خبر دی گئی ہے جن کی صحبت کا انتخاب وہ دنیا میں کرے گا۔
 ایمان پر استقامت:
مومنین کی تیسری خصلت اپنے ایمان کو نہایت مضبوطی کے ساتھ تھام لینا اور اس پر ثابت قدمی اختیار کرنا ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰلہ کی اطاعت کی راہ میں کیسی کیسی مشکلات ہی کیوں نا برداشت کرنی پڑیں ، اس کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑا جاے ۔ انبیاءاور اصحاب کی زندگیاں اس کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں ۔ اللّٰلہ کے پیغمبر یوسف علیہ سلام نے ہر طرح کی مشکلات حتی کے قید و بند کی صعوبتوں کو ایک طویل عرصہ تک برداشت کیا لیکن اطاعتِ خداوندی پر نہایت صبر کے ساتھ قائم رہے ۔
ایمان پر استقامت اور پختہ ایمان کی تو بہت ساری مثالیں ہیں مگر ان سب میں سے حضرت حنظلہؓ کا واقعہ بہت ہی اہمیت کی حامل ہے
نوجوان صحابی حضرت حنظلہ بن ابو عامر رضی اللّٰلہ عنہ شادی کی پہلی رات اپنی بیوی کے ساتھ حجلہ¿ عروسی میں تھے کہ کسی پکارنے والے نے آقائے دوجہاں صلی اللّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر جہاد کے لئے پکارا۔ وہ صحابی اپنے بستر سے اُٹھے ۔ دلہن نے کہا کہ آج رات ٹھہرجا¶، صبح جہاد پر روانہ ہو جانا۔ مگر وہ صحابی جو صہبائے عشق سے مخمور تھے ، کہنے لگے : اے میری رفیقہ¿ حیات! مجھے جانے سے کیوں روک رہی ہو؟ اگر جہاد سے صحیح سلامت واپس لوٹ آیا تو زندگی کے دن اکٹھے گزار لیں گے ورنہ کل قیامت کے دن ملاقات ہوگی۔
اس صحابی رضی اللّٰلہ عنہ کے اندر عقل و عشق کے مابین مکالمہ ہوا ہوگا۔ عقل کہتی ہوگی : ابھی اتنی جلدی کیا ہے ؟ جنگ تو کل ہوگی، ابھی تو محض اعلان ہی ہوا ہے ۔ شبِ عروسی میں اپنی دلہن کو مایوس کر کے مت جا، مگر عشق کہتا ہوگا : دیکھ! محبوب کی طرف سے پیغام آیا ہے ، جس میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی روا نہیں۔ چنانچہ آپ رضی اللّٰلہ عنہ اسی جذبہ¿ حب رسول صلی اللّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے اور مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے ۔ اللّٰلہ رب العزت کے فرشتوں نے انہیں غسل دیا اور وہ”غسیل الملائکہ“کے لقب سے ملقب ہوئے ۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ جب جنگ کے بعد رسول اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے ملائکہ کو انہیں غسل دیتے ہوئے ملاحظہ فرمایا تو آپ صلی اللّٰلہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللّٰلہ عنھم سے مخاطب ہوئے :تمہارے ساتھی حنظلہ کو فرشتوں نے غسل دیا ان کے اہلِ خانہ سے پوچھو کہ ایسی کیا بات ہے جس کی وجہ سے فرشتے اسے غسل دے رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حضرت حنظلہ رضی اللّٰلہ عنہ جنگ کی پکار پر حالتِ جنابت میں گھر سے روانہ ہوئے تھے ۔ پس رسول اللّٰلہ صلی اللّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے اسے غسل دیا اور اللّٰلہ تعالیٰ کے ہاں اس کے مقام و مرتبے کے لئے یہی کافی ہے ۔(حاکم، المستدرک)
اسی جذبے کے احیاءکی آج پھر ضرورت ہے ۔ اگر ہم جوان نسل میں کردار کی پاکیزگی، تقدس اور ایمان کی حلاوت نئے سرے سے پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان میں اس تعلقِ عشقی کو کوٹ کوٹ کر بھرنا ہوگا۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔