صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
بدھ 28 اکتوبر 2020 

حُسن اخلاق

مولانا رضوان اللّٰلہ پشاوری | جمعہ 21 فروری 2020 

حسنِ اخلاق دین اسلام کی جامع تعلیمات اور نافع ہدایات کا خلاصہ و لب لباب ہے اور کمالِ ایمانی کا لازمی نتیجہ و ثمرہ ہے ، یہ وہ وصف ہے کہ اگر وہ اخلاص و ایمان کے ساتھ ہو تو اس سے متصف ایک مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر انسان اپنے خالق کی خوشنودی اور مخلوق میں ہر دل عزیزی،بلکہ دونوں جہاں کی دائمی کامیابی حاصل کر سکتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جابجا ایمان و اعمال کے بعد اخلاق کی ترغیب اورتلقین و تاکید آئی ہے ، ایک مقام پر فرمایا: قَد± اَف±لَحَ مَن± تَزَکّٰی(الاعلیٰ)کامیاب اور بامرا د ہو گیا وہ شخص جس نے اپنا تزکیہ کر لیا۔اپنے اخلاق درست کر لیے ، یعنی جو حسن اخلاق سے متصف ہو گیا ۔اور حدیث مذکور میں گویا اس مضمون کو یوں بیان فرمایا:اِنَّ مِن± خِیَا رِ کُم± اَح±سَنَکُم± اَخ±لاَقاًبلا شبہ تم میں سب سے بہترین شخصوں میں سے خالق ومخلوق کے نزدیک (دارین میں )وہی ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، جو حسن اخلاق سے متصف ہو ۔ اس لیے اخلاق کی ترغیب دیتے ہوئے قرآن نے ایک اور مقام پر فرمایا:وََلاَتَن±سَوُا ال±فَض±لَ بَی±نَکُم±(البقرة)تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ احسان اوراخلاق کامعاملہ کرو، اس اخلاقی درس کو ہرگز نہ بھولو،ہر جگہ اورہروقت اسے یاد رکھو۔
اخلاق کی حقیقت :
 حسن اخلاق کی حقیقت میں علماءنے فرمایا کہ اخلاقِ مصطفوی کا نام حسن اخلاق ہے ، دوسرے لفظوں میں قرآن و حدیث میں جن بھلائیوں کاحکم دیاگیا ہے انہیں اختیار کرنااور جن برائیوں سے منع کیاگیا ہے ان سے اجتناب کرنے کا نام حسن اخلاق ہے اور حضرت عبداللّٰلہ بن مبارکؒ نے کتاب و سنت کی روشنی میں حسن اخلاق کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: بَس±طُ اَل±وَج±ہِ، وَبَذ±لُ المَع±رُو±فِ، وَکَفُّ الاَذٰی(مفتاح الاسرار شرحِ مشکوٰة الاٰثار)یعنی تین چیزوں کا نام اخلاق ہے :(1)ملاقات کے وقت دوست ہویا دشمن، اپنا ہو یا پرایا، ہر ایک سے کشادہ روئی،خندہ پیشانی اور خوش دلی سے پیش آنا ۔(2)بخشش اور سخاوت کرنا۔(3)ایذا رسانی سے باز رہے ۔
حسنِ اخلاق کے حیرت انگیز واقعات :
 اس سلسلہ میں ایک واقعہ یاد آیا۔حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ فرماتے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ جب آخری حج سے تشریف لارہے تھے تو ہم لوگ اسٹیشن پر شرفِ زیارت کے لیے گئے ،اس وقت حضرت کے متوسلین میں سے ایک شخص محمد عارف جھنگ سے دیوبند تک ساتھ گئے ،ان کا بیان ہے کہ ٹرین میں ایک ہندو جنٹلمین بھی تھا، جس کو قضائِ حاجت کے لیے جانا تھا،لیکن جا کر الٹے پا¶ں بادلِ ناخواستہ واپس آیا،حضرت مدنی رحمة اللّٰلہ علیہ سمجھ گئے ، فوراً لوٹا لے کر پاخانہ گئے اور اچھی طرح اسے صاف کر کے واپس آگئے ،پھر اس ہندو دوست سے فرمانے لگے :آپ قضائِ حاجت کے لیے جانا چاہتے تھے تو جائیے !بیت الخلاءبالکل صاف ہے قصہ مختصر وہ اٹھا اور جاکر دیکھا تو پاخانہ بالکل صاف تھا،بہت متاثر ہوااور قضائِ حاجت کے بعد بھر پور عقیدت سے عرض کرنے لگا: یہ حضور کی بندہ نوازی ہے ، جو سمجھ سے باہر ہے اس واقعہ کو دیکھ کر ٹرین میں سوار خواجہ نظام الدین تونسوی مرحوم نے ایک ساتھی سے پوچھاکہ یہ کھدر پوش کون ہے ؟ جواب ملاکہ یہ مولانا حسین احمد مدنی ہیں تو خوا جہ صاحب فوراً حضرت مدنیؒ سے لپٹ گئے اور رونے لگے ، حضرت مدنی ؒ نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ تو کہا:سیاسی اختلاف کی وجہ سے میں نے آپ کے خلاف فتوے دیے اور برابھلا کہا،آج آپ کے اعلیٰ کرداراور اخلاق کو دیکھ کر تائب نہ ہوتا تو شاید مر کرسیدھا جہنم میں جاتا۔ اس پر حضرت مدنی رحمة اللّٰلہ علیہ نے فرمایا:میرے بھائی!میں نے تو حضور صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کیا ہے اور وہ سنت یہ ہے کہ حضور صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کے یہاں ایک یہودی مہمان نے آپ صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کے بستر مبارک پر رات کھا کر پاخانہ کر دیااور صبح اٹھ کر جلدی چلا گیا،اور اپنی تلوار وہیں بھول گیا،جب اپنی بھولی ہوئی تلوار لینے آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ حضور صلی اللّٰلہ علیہ و سلم بنفس نفیس اپنے دستِ مبارک سے بستر دھو رہے ہیں، حضور صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کے اِن اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر وہ یہودی مسلمان ہو گیا۔(ماہنامہ الرشید،کتابوں کی درسگاہ میں )اس لیے بندہ کا خیالِ ناقص یہ ہے کہ حسنِ اخلاق دعوتی میدان میں نہایت ہی م¶ثر پیغام رکھتا ہے ، اس کی حیثیت ایک سائلینٹ میسیج (خاموش پیغام)کی ہے ،آج ہم مسلمان اسلام کی تعلیم و تاکید کے مطابق حسنِ اخلاق اختیار کر لیں تو یقیناًغیر مسلم ہمارے اخلاق کو دیکھ کر اسلام قبول کر لیں،اس لیے کہ جو قوم ہر کنکر کو شنکر مان کر اس کے سامنے جھکتی ہے وہ حسنِ اخلاق کے سامنے کیوں نہ جھکے گی ؟وہ حسنِ اخلاق سے کیسے متاثر نہ ہوگی ؟لہٰذا ضرورت ہے ایمان کے بعد اخلاص کے ساتھ اخلاق سے پیش آنے کی۔
حسنِ اخلاق پر اخروی انعامات :
حدیث میں مروی ہے کہ قیامت کے دن قائم اللیل اور صائم النہار یعنی دن میں روزہ رکھنے والا اور رات بھر نمازیں پڑھنے والا اپنے اس عمل سے جو مرتبہ اور مقام پائے گا خلیق (حسنِ اخلاق والے )کو وہی مرتبہ اور درجہ حسنِ اخلاق کی بدولت حاصل ہوگا:عَن± عَائِشَةؓ قَالَت±:سَمِع±تُ رَسُو±لَ اللّٰہِ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم یَقُو±لُ: اِنَّ ال±مُ¶±مِنَ لَیُد±رِکُ بِحُس±نِ خُلُقِہِ دَرَجَةَ قَائِمِ اللَّی±لِ وَصَائِمِ النَّھَارِ(ابوداود،مشکوٰة) مومن اچھے اخلاق کی وجہ سے رات کو قیام کرنے اور دن کو روزہ رکھنے والے کا درجہ پالیتاہے ۔ایک اور حدیث میں ہے کہ حسنِ اخلاق سے متصف ہونے والے کے لیے جنت کے نہایت اعلیٰ درجہ میں ایک بہترین محل بنایا جائے گا ۔وَمَن± حَسَّنَ خُلُقَہا بُنِیَ لَہا فِی± اَع±لاَھَا( مشکوٰة)جس نے اپنے اخلاق کو درست کرلیا اس کے لیے جنت کے بالائی حصہ میں گھر بنایاجائے گا،بلکہ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ جنت حسنِ اخلاق والوں کی سوسائٹی ہے ، اور وہاں ان کا خوب اکرام ہوگا،جیساکہ منقول ہے کہ ام المومنین سیدہ امِ سلمہ رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہا نے ایک مرتبہ رحمتِ عالم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم سے ایک عجیب و غریب سوال کیاکہ حضور! کسی عورت کے یکے بعد دیگرے ایک سے زائد شوہر ہو ں، اور وہ سب کے سب یکے بعد دیگرے انتقال کر جائیں، تو یہ عورت جنت میں کس شوہر کے ساتھ ہوگی ؟ فرمایا :یا تو آخری شوہر کے ساتھ ہوگی، یاپھراسے اختیار دیا جائے گا کہ ان میں جسے چاہے پسند کر لے ،یا ان میں جس کے اخلاق اچھے ہوں گے اسی کے ساتھ ہوگی، وہ کہے گی: الٰہی! اس کے اخلاق میرے ساتھ بہت اچھے رہے ، لہٰذا میں اس کے ساتھ رہوں گی(ابن کثیر)
حسنِ اخلاق کو اختیار کر نا دین و دانش کا تقاضا ہے :
قرآن وحدیث کے ان حقائق سے معلوم ہواکہ جس خوش نصیب کو ایمان و اخلاق کی دولت نصیب ہوگی اسے یقیناًدونوں جہاں میں مقبولیت اور عزت نصیب ہوگی،اور جو اس سے محروم رہا وہ دونوں جہاں کی خیر سے محروم رہے گا۔العیاذباللّٰلہ العظیم۔ضرورت ہے کہ ہم حسن اخلاق سے متصف ہوجائیں، اس کے لیے بزرگوں سے صحیح تعلق قائم کریں، اور اس طرح اپنے اخلاق کی اصلاح کرکے اپنے دل کو روشن کر لیں، ایک بزرگ نے فرمایا :روشن دل وہ ہے جس میں خَل±ق( مخلوق کی محبت)نہ ہو،اور سیاہ دل وہ ہے جس میں خُلُق (اخلاق)نہ ہو۔
 آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی زندگی کا سب سے بڑا اصول یہ تھا کہ نیکی کا کوئی کام اور ثواب کا کوئی عمل ہو آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم سب سے پہلے اس پر عمل کرتے تھے۔ آپ جب کسی بات کا حکم دیتے تو پہلے آپ اس کو کرنے والے ہوتے ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰلہ تعالی عنہ رسول اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کے قریبی صحابی اور وفادار خادم تھے حضور صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کو انھوں نے بہت قریب سے دیکھا تھا اور آپ کی سیرتِ مبارکہ کا بڑی گہرائی سے مشاہدہ کیا تھا۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے پورے دس سال رسول اللّٰلہ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ آنحضرت صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے کبھی مجھے اُف تک نہیں کہا اور میرے کسی کام پر یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ بلاشبہ آنحضور صلی اللّٰلہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ محاسن اخلاق کے حامل تھے ۔
حضرت انس رضی اللّٰلہ تعالی عنہ سے زیادہ قریب رسول اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار اور اخلاق واعمال کے مشاہدے کا موقع ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰلہ تعالی عنہا کو میسر آیا تھا کیوں کہ وہ آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی رفیقہ حیات تھی اور آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کے ہر ظاہری اور خانگی معمولات و عادات سے واقف تھیں۔ ایک مرتبہ چند صحابی رضوان اللّٰلہ تعالی علیہم اجمعین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰلہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے امّ المومنین ! حضور صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے ۔ تو عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟ کان خلق رسول القرآن ”رسول اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا“ (ابودا¶د شریف) یعنی قرآنی تعلیمات آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار میں رچی اور بسی ہوئی تھی۔ اور حضور اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم ان سے ذرا بھی منحرف نہ تھے ۔ خود قرآن کریم میں آپ کے بلند اخلاق و کردار کی شہادت دی گئی ہے کہ ”بیشک آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں“( القلم)
رشتہ داروں میں حضرت علی رضی اللّٰلہ تعالی عنہ جو بچپن سے جوانی تک آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے تھے ، وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم طبیعت کے نرم اور اخلاق کے نیک تھے ، طبیعت میں مہربانی تھی سخت مزاج نہ تھے ۔ کسی کی دل شکنی نہ کرتے تھے ، بلکہ دلوں پر مرہم رکھتے تھے ۔ آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم ر¶ف و رحیم تھے ۔ (شمائل ترمذی) جب مکہ فتح ہوا تو حرم کے صحن میں قریش کے تمام سردار مفتوحانہ انداز میں کھڑے تھے ۔ ان میں وہ بھی تھے جو اسلام کے مٹانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاچکے تھے ، وہ بھی جو آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کو جھٹلایاکرتے تھے ، وہ بھی تھے جو آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی برائی کیا کرتے تھے ، وہ بھی تھے جو آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتے تھے ، وہ بھی تھے جو خود اس پیکر قدسی کے ساتھ گستاخیوں کا حوصلہ رکھتے تھے ۔ وہ بھی تھے جنھوں نے آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکے تھے ۔ آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی راہ میں کانٹے بچھائے تھے وہ بھی تھے جنھوں نے آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم پر تلواریں چلائی تھیں، وہ بھی تھے جو غریب اور بے کس مسلمانوں کو ستاتے تھے ان کو جلتی ریتوں پر لٹاتے تھے ۔ دہکتے شعلوں سے ان کے جسم کو داغتے تھے ۔ آج یہ سب مجرم سرنگوں سامنے تھے پیچھے دس ہزار خون آشام تلواریں محمد رسول اللّٰلہ کے ایک اشارے کی منتظر تھیں، مگر قربان جائیے محمد عربی پر کہ اس نے ان تمام جرائم سے قطع نظر، جانی دشمنوں پر ہر طرح سے غلبہ کے باوجود ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور اپنی بلند اخلاق کا کیسا دائمی اور عالمگیری نمونہ دنیا والوں کے لئے قائم کردیا؟ اس سلسلے میں مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمة اللّٰلہ علیہ لکھتے ہیں کہ:رسول اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے قریشیو! تمہیں کیا توقع ہے کہ اس وقت میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟ انھوں نے جواب دیا ہم اچھی ہی امید رکھتے ہیں، آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کریم النفس اور شریف بھائی ہیں اور کریم و شریف بھائی کے بیٹے ہیں آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم سے وہی کہتا ہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا ”لا تثریب علیکم الیوم اذہبوا فانتم الطلقائ“ آج تم پر کوئی الزام نہیں جا¶ تم سب آزاد ہو (نبی رحمت)غرض خوش اخلاقی دینداری ہے تو بداخلاقی بے دینی ہے ، جو نیکی کو اس طرح خراب کر دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو،اور اچھے اخلاق بدی کو اس طرح پگھلا دیتے 
ہیں جیسے پانی نمک کو،لہٰذا بد اخلاقی سے اجتناب کرنا اور حسنِ اخلاق کو اختیار کرنا عقل و نقل اور دین و دانش کا تقاضا ہے ۔اللّٰلہ تعالیٰ ہمیں حسنِ اخلاق سے متصف فرمائے (آمین )

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔