صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعرات 15 اپریل 2021 

اسلاموفوبیااوراسلام کا حقیقی چہرہ

مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی | پیر جنوری 2021 

اسلام امن، سلامتی، اعتدال اور سہولت کا مذہب ہے، تشدد، بدامنی ، انتہا پسندی، شدت اور دہشت گردی سے اسلام کا وہی رشتہ ہے جو روشنی کا اندھیرے سے، نور کا ظلمت سے اور سچائی کا جھوٹ سے ہوتا ہے۔
عروج اسلام کے بعد عیسائی دنیا نے مسلمانوں پر کروسیڈ کے نام سے ایک دو نہیں سات صلیبی جنگیں مسلط کیں، جو بالآخرفاتح سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتح پر انجام کو پہنچیں، اس وقت شاہ لوئی نہم نے مسلمانوں سے رہائی حاصل کرنے کے بعد اہل مغرب کونصیحت کی تھی کہ اگر تم مسلمانوں پر فتح حاصل کرنا چاہتے ہو تو فوج کشی کے بجائے ان کے عقید ہ پر ضرب لگائو تاکہ مسلمانوں کی آئندہ نسلیں پکے ہوئے پھل کی طرح تمہاری جھولی میں گرجائیں، شاہ فرانس کی اس نصیحت پر یورپ کے حکمرانوں سے زیادہ مستشرقین اور عیسائی مبلغین نے توجہ دی، پاپائے روم کی اسلام او رپیغمبر اسلام صلی اللّٰلہ علیہ وسلم پر کی گئی بے بنیاد تنقیدیں اسی سلسلہ کی کڑی ہے، بالخصوص ان کا یہ الزام کہ اسلام دنیا میں تلوار کے زور پر پھیلا اس مہم کا ایک حصہ ہے جو مغرب نے اسلام کیخلاف چھیڑ رکھی ہے اور جس کا مقصد فکری وعملی سطح پر اسلام کے مقابلہ میں پسپائی کے بعد دنیا کو اس کے بارے میں گمراہ کرنا ہے۔ اس طرح کے الزامات کاجواب ماضی میں علماء کرام دے چکے ہیں۔ ابوالکلام آزاد نے سیر ت النبی صلی اللّٰلہ علیہ وسلم،مولانامحمد ادریس کاندہلوی  نے سیرت مصطفی صلی اللّٰلہ علیہ وسلم ،مولانامحمد ولی رازی نے ہادی عالم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم ،مولانامحمد سلمان ندوی  نے سیرت النبی صلی اللّٰلہ علیہ وسلم اسلام کے سیاسی نظام کے اصول و مبادی ،خواجہ شمس الدین عظمی نے باران رحمت ، مولاناغلام غوث ہزاروی  نے جنگ سیرت نبوی کی روشنی میں ،قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری  نے رحمة للعالمین ،مولانامناظر احسن گیلانی نے النبی الخاتم ،محمد حبیب حسامی نے جمال حبیب ،مولاناقاضی محمد اسرائیل گڑنگی نے ایمان کی جان شہد سے میٹھا محمد(صلی اللّٰلہ علیہ وسلم )نام اور علامہ شبلی نعمانی نے سیرت النبی لکھ کر پیغمبر اسلام ۖ کے اعلی انسانی خصائل اور فکر کی بلندی کو ثابت کیا اس کے علاوہ دوسرے مفکرین بھی اسلام کے اوپر عائد اس اتہام کا کہ یہ مذہب تلوار کی زور پر پھیلا ہے مسکت جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اپنے ظہور کے پہلے دن سے اسلام سلامتی کا مذہب رہا ہے، دنیا جانتی ہے کہ مکہ مکرمہ جہاں سے اسلام کا آفتاب طلوع ہوا ، وہاں تلوار حضرت محمد صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نہیں، ان کے نہ ماننے والوں کے قبضہ میں تھی۔انہوں نے ہر میدان میں تلوار چلائی یہانتک کہ جس رات نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو ابوجہل نے ہر قبیلے کے ایک ایک فرد کا انتخاب کیااور انہیں تلواریں دیں کہ محمد (صلی اللّٰلہ علیہ وسلم ) کو معاذاللّٰلہ ختم کردو۔
نبی پاک صلی اللّٰلہ علیہ وسلم پر جو لوگ جنگ باز ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں ، وہ اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ آنحضرت نے لڑنا تو کجاہجرت سے قبل کبھی ہتھیار ہاتھ میں نہیں لیا تھا، حالانکہ اس وقت عرب معاشرہ میں لڑائی جھگڑا عام تھا، ہر شخص کم عمری سے فن سپہ گری میں جوہر دکھاتا، زندگی کے آخری ایام میں مدینہ کے قیام کے دوران آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کو جن خونریز جنگوں کا سامنا کرنا پڑا ان کے محرک آپ کے حریف تھے، حضور صلی اللّٰلہ علیہ وسلم میدان جنگ میں تشریف لائے تو آپ نے جنگ کو عبادت بنادیا، حکم صادر ہوا کہ عورتوں ، بچوں، بوڑھوں، بیماروں اور عبادت گاہوں میں کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے، فرمان الٰہی تھا کہ صرف ان سے لڑو جو تم سے لڑنے پر کمربستہ ہوں، تاکید فرمائی کہ دوسرا حریف صلح کرنا چاہے تو اس کی پیش کش کو قبول کرلو، نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم تشریح فرماتے رہے کہ جنگ کا مقصد سمجھ لو، یہ نہ مال غنیمت کیلئے ہے اور نہ اقتدار کے حصول کیلئے، قرآن میں مقصد جہاد کی وضاحت یوں کی گئی کہ اگر اللّٰلہ تعالی ایک کے ذریعہ دوسرے کی مدافعت نہ کرتا تو راہبوں کی خانقاہیں، یہود ونصاری کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مساجد جن میں کثرت سے اللّٰلہ کا نام لیا جاتا ہے، سب ڈھا دیئے جاتے، اسی لئے دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں نے جہاں بھی تلوار اٹھائی، اس کا مقصد اپنا اور مظلوموں کا دفاع کرنا تھا، غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے کیلئے مجبور کرنا ہرگز نہیں اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنا تھا جس میں تمام مذاہب کی آزادی برقرار رہے اور ان کے ماننے والے کسی پابندی کے بغیر اپنے مذہبی فرائض ادا کرسکیں۔غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب صلی اللّٰلہ علیہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔حضور صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرما دی تھی
عہدرسالت مآب میں غیر مسلموںکے تحفظ کی قانونی حیثیت
عہدِ نبوی میں اہلِ نجران سے ہونے والا معاہدہ مذہبی تحفظ اور آزادی کیساتھ ساتھ جملہ حقوق کی حفاظت کے تصور کی عملی وضاحت کرتا ہے۔اِسے امام ابو عبید قاسم بن سلام، امام حمید بن زنجویہ، ابن سعد اور بلاذری سب نے روایت کیا ہے اِس میں حضور نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے یہ تحریری فرمان جاری فرمایا تھا:
ترجمہ:اللّٰلہ تعالی اور اس کے رسول محمد صلی اللّٰلہ علیہ وسلم ، اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کیلئے ان کے خون، ان کی جانوں، ان کے مذہب، ان کی زمینوں، ان کے اموال، ان کے راہبوں اور پادریوں، ان کے موجود اور غیر موجود افراد، ان کے مویشیوں اور قافلوں اور ان کے استھان (مذہبی ٹھکانے)وغیرہ کے ضامن اور ذمہ دار ہیں۔جس دین پر وہ ہیں اس سے ان کو نہ پھیرا جائے گا.۔ان کے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔نہ کسی پادری کو، نہ کسی راہب کو، نہ کسی سردار کو اور نہ کسی عبادت گاہ کے خادم کو ۔خواہ اس کا عہدہ معمولی ہو یا بڑا ۔اس سے نہیں ہٹایا جائے گا، اور ان کو کوئی خوف و خطر نہ ہوگا.(ابن سعد، الطبقات الکبری، 1: 288، 358۔ابو یوسف، کتاب الخراج: 78۔ابو عبید قاسم، کتاب الاموال: 244، 245، رقم: 503۔ابن زنجوی، کتاب الاموال: 449، 450، رقم: 732۔بلاذری، فتوح البلدان: 90)
امام حمید بن زنجویہ نے بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد بھی عہد صدیقی میں یہی معاہدہ نافذ العمل رہا، پھر عہد فاروقی اور عہد عثمانی میں حالات کی تبدیلی کے پیش نظر کچھ ترامیم کی گئیں مگر غیر مسلموں کے مذکورہ بالا حقوق کی حفاظت و ذمہ داری کا وہی عمل کامل روح کیساتھ برقرار رہا۔
اِسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے موقع پر بھی یہود کے اموال و املاک کے بارے میں اعلان فرمایا، جسے امام احمد، امام ابو دائود، امام طبرانی اور دیگر ائمہ حدیث و سِیر نے روایت کیا ہے:
ترجمہ :حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰلہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کیساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے لوگ (مجاہدین)جلدی میں یہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے گئے۔آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے مجھے نماز کیلئے اذان دینے کا حکم فرمایا۔نماز کے بعد آپ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو!تم جلدی میں یہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے گئے ہو۔خبرادار!سوائے حق کے غیر مسلم شہریوں کے اموال سے لینا حلال نہیں ہے۔(احمد بن حنبل، المسند، 4: 89، رقم: 16862۔ابو دائود، السنن، کتاب الطعم، باب النہی عن ا کل السباع، 3:356، رقم: 3806۔ابن زنجوی، کتاب الاموال: 379، رقم: 618)
امام دارقطنی نے ان الفاظ سے اس روایت کو بیان کیا ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰلہ عنہ نے فرمایاحضور نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر غیر مسلم شہریوں کے اموال پر قبضہ کرنا حرام قرار دے دیا.(دارقطنی، السنن، 4:287، رقم: 63)
دورِ نبوی صلی اللّٰلہ علیہ وسلم میں ان معاہدات، دستاویزات اور اعلانات سے اقلیتوں کے حقوق کا درج ذیل خاکہ سامنے آتا ہے:
٭اسلامی حکومت کے تحت رہنے والی غیر مسلم رعایا کو مساوی قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں
٭ان کے مذہب سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جا سکتا
٭ان کے اموال، جان اور عزت و آبرو کی حفاظت مسلمانوں ہی کی طرح اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے
٭اسلامی حکومت انہیں انتظامی امور کے عہدے جس قدر وہ اہلیت و استحقاق رکھیں تفویض کر سکتی ہے
٭اپنے مذہبی نمائندے اور عہدے دار وہ خود متعین کرنے کے مجاز ہوتے ہیں، ان کی عبادت گاہیں قابلِ احترام ہیں اور انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے.
 عہدِ صدیقی میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت
غیر مسلم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا یہ اہتمام صرف پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی زندگی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی حیات ظاہری کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا.
چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰلہ عنہ کے دورِ خلافت میں غیر مسلم شہریوں کو مسلمانوں ہی کی طرح حقوق اور تحفظ حاصل تھا۔آپ کے دور میں جب اسلامی لشکر روانہ ہوتا تو آپ سپہ سالار کو حسب ذیل احکام اور ہدایات ارشاد فرماتے:
خبردار!زمین میں فساد نہ مچانا اور احکامات کی خلاف ورزی نہ کرنا۔کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ انہیں جلانا، چوپایوں کو ہلاک نہ کرنا اور نہ پھلدار درختوں کو کاٹنا، کسی عبادت گاہ کو مت گرانا اور نہ ہی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا۔تمہیں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جنہوں نے گرجا گھر وں میں اپنے آپ کو محبوس کر رکھا ہے اور دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا
(بیہقی، السنن الکبری، 9: 85۔مالک، الموطا، 2:448، رقم: 966۔عبد الرزاق، المصنف، 5:199۔ہندی، کنز العمال، 1:296۔ابن قدام، المغنی ، 8:451، 452، 477)
 علامہ حسام الدین ہندی نے کنز العمال میں مذکورہ روایت کو نقل کر تے ہوئے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے:اور نہ کسی مریض کو اور نہ ہی کسی پادری کو قتل کرنا.(ہندی، کنز العمال، 4:474، رقم: 11409) حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰلہ عنہ جب خلیفہِ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰلہ عنہ کے حکم پر دمشق اور شام کی سرحدوں سے عراق اور ایران کی طرف لوٹے تو راستے میں باشندگانِ عانات کیساتھ یہ معاہدہ کیا کہ:
ان کے گرجے اور خانقاہیں منہدم نہیں کی جائیں گی۔
وہ ہماری نماز پنجگانہ کے سوا ہر وقت اپنا ناقوس بجا سکتے ہیں، ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی
وہ اپنی عید پر صلیب نکال سکتے ہیں(ابو یوسف، کتاب الخراج: 158)
عہدِ فاروقی میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت
عہد فاروقی میں بھی غیر مسلم شہریوں کے تحفظ اور حقوق کیساتھ ساتھ نفسِ انسانی کے احترام اور وقار میں اس قدر اضافہ ہوا کہ مفتوحہ علاقوں کے غیر مسلم شہری اسلامی ریاست میں اپنے آپ کو زیادہ محفوظ اور آزاد سمجھتے تھے۔حضرت عمر فاروق رضی اللّٰلہ عنہ کے دورِ حکومت میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا اندازہ ہمیں آپ رضی اللّٰلہ عنہ کے حسبِ ذیل ارشادات اور معمولات سے ہوتا ہے
 حضرت عمررضی اللّٰلہ عنہ نے شام کے گورنر حضرت ابو عبیدہ رضی اللّٰلہ عنہ کو جو فرمان لکھا اس میں منجملہ دیگر احکام کے ایک یہ بھی درج تھا:
(تم بحیثیت گورنر) مسلمانوں کو غیر مسلم شہریوں پر ظلم کرنے اور انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کے مال کھانے سے سختی کیساتھ منع کرو(ابو یوسف، کتاب الخراج: 152)
 حضرت عمر بن الخطاب رضی اللّٰلہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی ان کے پاس اسلامی ریاستوں سے کوئی وفد آتا تو آپ اس وفد سے غیر مسلم شہریوں کے احوال دریافت فرماتے کہ کہیں کسی مسلمان نے انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف تو نہیں پہنچائی؟ اِس پر وہ کہتے: ہم اور کچھ نہیں جانتے مگر یہ کہ ہر مسلمان نے اس عہد و پیمان کو پورا کیا ہے جو ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان موجود ہے(طبری، تاریخ الامم والملوک، 2: 503)
حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ کو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اقلیتوں کا خیال تھا حالانکہ ایک اقلیتی فرقہ ہی کے فرد نے آپ کو شہید کیا۔ اس کے باوجود آپ رضی اللّٰلہ عنہ نے ارشاد فرمایا:
میں اپنے بعد والے خلیفہ کو اللّٰلہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کے ذمہ میں آنے والے غیر مسلم شہریوں کے بارے میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ ان سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا جائے، ان کی حفاظت کیلئے بوقتِ ضرورت لڑا بھی جائے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے(بخاری، الصحیح، کتاب الجنائز، باب ما جا فی قبر النبی ، 1: 469، رقم: 1328۔ابن بی شیب، المصنف، 7: 436، رقم: 37059۔بیہقی، السنن الکبری، 8:150۔ابن سعد، الطبقات الکبری، 3:339)
 غیر مسلم شہریوں سے ٹیکس کی وصولی میں نرمی
سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰلہ عنہ نے اپنے ماتحت حکام کو غیر مسلم شہریوں سے حسن سلوک کا حکم دینے کیساتھ ساتھ ان پر ٹیکس عائد کرنے اور اس کی وصولی میں رعایت کے احکامات جاری فرمائے
 حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت اسلم بیان کرتے ہیںکہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰلہ عنہ نے سپہ سالاروں کو خط لکھا کہ وہ غیر مسلم عورتوں اور بچوں پر ٹیکس نافذ نہ کریں(عبد الرزاق، المصنف 6: 85، رقم: 10009۔بیہقی، السنن الکبری، 9: 195، رقم: 18463)
امام ابن قدامہ بیان کرتے ہیںکہ حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ کے پاس کثیر مال لایا گیا ابو عبید نے کہا: میرا خیال ہے کہ وہ ٹیکس (سے حاصل کردہ مال)تھا۔ تو آپ رضی اللّٰلہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، اللّٰلہ کی قسم!ہم نے یہ ٹیکس معافی اور نرمی کیساتھ ہی وصول کیا ہے۔آپ رضی اللّٰلہ عنہ نے پوچھا: بغیر کسی سختی کے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں
آپ نے دعا کی: تمام تعریفیں اس اللّٰلہ تبارک و تعالی کیلئے ہیں جس نے میرے ہاتھ سے اور میری حکمرانی میں غیر مسلموں پر یہ زیادتی نہیں ہونے دی(ابن قدام، المغنی، 9:290)
 شام کے سفر میں حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے عامل ٹیکس وصول کرنے کیلئے غیر مسلم شہریوں کو دھوپ میں کھڑا کر کے سزا دے رہے ہیں۔
 اس پر آپ رضی اللّٰلہ عنہ نے فرمایا:ان کو چھوڑ دو، ان کو ہرگز تکلیف نہ دو جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے، میں نے حضور نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کو عذاب نہ دو، بے شک جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں اللّٰلہ تعالی انہیں قیامت کے دن عذاب دے گا(ابو یوسف، کتاب الخراج: 135)پس آپ رضی اللّٰلہ عنہ کے حکم پر عامل نے انہیں چھوڑ دیا
معذور، بوڑھے اور غریب غیر مسلم شہریوں کیلئے وظائف
سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰلہ عنہ کے دورحکومت میں غیر مسلم شہریوں سے حسنِ سلوک کا یہ عالم تھا کہ کمزور، معذور اور بوڑھے غیر مسلم شہریوں کا نہ صرف ٹیکس معاف کر دیا جاتا تھا بلکہ بیت المال سے ان کی اور ان کے اہل و عیال کی کفالت بھی کی جاتی تھی
امام ابو عبید القاسم بن سلام کتاب الاموال میں بیان کرتے ہیںکہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللّٰلہ عنہ غیر مسلم شہریوں میں سے ایک بوڑھے شخص کے پاس سے گزرے جو لوگوں کے دروازوں پر بھیک مانگتا تھا۔آپ نے فرمایا: ہم نے تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ ہم نے تمہاری جوانی میں تم سے ٹیکس وصول کیا، پھر تمہارے بڑھاپے میں تمہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ رضی اللّٰلہ عنہ نے اس کی ضروریات کیلئے بیت المال سے وظیفہ کی ادائیگی کا حکم جاری فرمایا(ابو عبید، کتاب الموال : 57، رقم: 119)
امام ابو یوسف نے اسی روایت کو کتاب الخراج میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰلہ عنہ ایک قوم کے دروازے کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہاں ایک سائل بھیک مانگ رہا تھا جو نہایت ضعیف اور نابینا تھا۔ حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ نے اس کے بازو پر پیچھے سے ہاتھ رکھا اور کہا کہ تم اہلِ کتاب کے کس گروہ سے ہو؟ 
اس نے کہا کہ یہودی ہوں۔آپ رضی اللّٰلہ عنہ نے فرمایا: تجھے اِس امر پر کس نے مجبور کیا جو میں دیکھ رہا ہوں؟
 اس نے کہا کہ میں ٹیکس کی ادائیگی اور اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے بڑھاپے (میں کما نہ سکنے)کی وجہ سے بھیک مانگتا ہوں۔
 حضرت عمر فاروق رضی اللّٰلہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے گھر لے گئے اور اسے اپنے گھر سے کچھ مال دیا۔پھر اسے بیت المال کے خازن کی طرف بھیجا اور کہا کہ اسے اور اس قبیل کے دوسرے لوگوں کو دیکھو۔خدا کی قسم!ہم نے اس کیساتھ انصاف نہیں کیاکہ اس کی جوانی سے تو ہم نے فائدہ اٹھایا اور بڑھاپے میں اسے رسوا کر دیا(پھر آپ نے یہ آیت پڑھی)بے شک صدقات فقراء اور مساکین کیلئے ہیں(اور فرمایا) فقرا سے مراد مسلمان ہیں اور یہ اہلِ کتاب (غیر مسلم شہری)مساکین میں سے ہے۔اور حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ نے اس سے اور اس جیسے دیگر کمزور لوگوں سے ٹیکس ختم کر دیا(ابو یوسف، کتاب الخراج: 136)
 عہدِ عثمانی میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت
خلافتِ راشدہ کے تیسرا دور کا آغاز ہی ایک المناک حادثہ سے ہوا کہ ایک غیر مسلم نے خلیفہ ِ وقت حضرت عمر فاروق رضی اللّٰلہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا اور آپ شہید ہو گئے۔حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبید اللّٰلہ بن عمر رضی اللّٰلہ عنہ نے غصہ میں آ کر قتل کی سازش میں ملوث تین آدمیوں کو قتل کر دیا، جن میں سے ایک مسلمان اور دو غیر مسلم عیسائی تھے۔حضرت عبید اللّٰلہ رضی اللّٰلہ عنہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
 خلیفہ ثالث نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی سب سے پہلے اس معاملہ کے بارے میں صحابہ کرام سے رائے لی، تمام صحابہ کرام کی رائے یہ تھی کہ عبید اللّٰلہ بن عمر رضی اللّٰلہ عنہ کو قتل کر دیا جائے۔ لہذا یہ امر یقینی ہوگیا تھا کہ قصاص میں حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ کے صاحبزادے عبید اللّٰلہ بن عمر رضی اللّٰلہ عنہ کو سزائے موت دے دی جاتی لیکن مقتولین کے ورثا کی اپنی رضامندی سے خون بہا پر مصالحت ہو گئی اور خون بہا(دیت)کی رقم تینوں مقتولین کیلئے برابر تقسیم کردی گئی(ابن سعد، الطبقات الکبری، 5:17)اب دیکھیں مقتولین میں دو غیر مسلم عیسائی تھے دیت ان کے ورثاء میں بھی برابر تقسیم ہوئی یہی اسلام کا حسن اور غیر مسلموں سے حسن سلوک ہے ۔
عہدِ علوی میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت
سیدنا علی رضی اللّٰلہ عنہ کے عہد خلافت میں بھی غیر مسلم شہریوں کے حقوق اسی طرح محفوظ و محترم رہے اور انہیں جان و مال اور عزت و آبرو کا مکمل تحفظ حاصل رہا
حضرت علی رضی اللّٰلہ عنہ کے پاس ایک مسلمان کو پکڑ کر لایا گیا جس نے ایک غیر مسلم کو قتل کیا تھا۔ثبوت فراہم ہو جانے کے بعد حضرت علی رضی اللّٰلہ عنہ نے قصاص میں غیر مسلم کے بدلے اس مسلمان کو قتل کئے جانے کا حکم دیا۔قاتل کے ورثا نے مقتول کے بھائی کو خون بہا دے کر معاف کرنے پر راضی کر لیا۔حضرت علی رضی اللّٰلہ عنہ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ رضی اللّٰلہ عنہ نے مقتول کے وارث کو فرمایا:شاید ان لوگوں نے تجھے ڈرا دھمکا کر یہ کہلوایا ہے۔اس نے کہا: نہیں، بات دراصل یہ ہے کہ قاتل کے قتل کئے جانے سے میرا بھائی تو واپس آنے سے رہا اور اب یہ مجھے ا س کی دیت دے رہے ہیں جو پسماندگان کیلئے کسی حد تک کفایت کرے گی۔اس لئے میں خود اپنی مرضی سے بغیر کسی دبائو کے معافی دے رہا ہوں۔اس پر حضرت علی رضی اللّٰلہ عنہ نے فرمایا: اچھا تمہاری مرضی۔تم زیادہ بہتر سمجھتے ہولیکن بہرحال ہماری شریعت کا اصول یہی ہے کہ من کان لہ ذِمتنا، فدمہ کدمِنا، ودِیتہ کدِیتِنا۔جو ہماری غیر مسلم رعایا میں سے ہے اس کا خون اور ہمارا خون برابر ہیں اور اس کی دیت بھی ہماری دیت کی طرح ہے(بیہقی، السنن الکبری، 8:34۔شافعی، المسند، 1:344۔شیبانی، الحج، 4:355)
ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللّٰلہ عنہ نے فرمایا:ِاذا قتل المسلِم النصرانِی قتِل بِہِ اگر کسی مسلمان نے عیسائی کو قتل کیا تو وہ مسلمان (اس کے قصاص میں)قتل کیا جائے گا(شیبانی، الحج، 4:349۔شافعی، الام، 7:320)
رسول اللّٰلہ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم اور حضرات خلفائے راشدین کی پوری زندگی دنیا کے سامنے ہے جس سے ایک مثال بھی ایسی نہیں دی جاسکتی کہ کسی غیر مسلم کیساتھ اس کے غیر مسلم ہونے کی وجہ سے زیادتی ہوئی ہو یا کسی شخص کو ایمان لانے پر مجبور کیا گیا ہو، یہی وجہ ہے مسلمانوں کے بہت سے قریبی اعزا کی موت کفر کی حالت میں ہوئی، کفار مکہ ہوں یا یہودی قبائل، انہوں نے اسلام جیسے امن واخوت کے مذہب اور اس کے علمبرداروں کی مخالفت ، اس لئے کی کہ وہ سمجھتے تھے کہ مساواتِ انسانی کی یہ تحریک ان کے صدیوں سے چلے آرہے استبدادی معاشرہ کو مٹادے گی لہذا مدینہ منورہ میں جن اعلی اصولوں پر اسلامی ریاست کا قیام ہورہاہے، اس کو مستحکم ہونے سے پہلے ختم کردیا جائے، اسی مقصد سے جنگوں کا سلسلہ شروع کیا گیا
 انگریز مصنف لارڈ ریڈلے نے مذکورہ جنگوں کا تجزیہ کرتے ہوئے صحیح لکھا ہے کہ ان جنگجوں میں جارح کون اور جارحیت کا مقابلہ کون کررہا تھا، جنگوں کے جائے وقوع سے بآسانی اندازہ ہوجاتا ہے، پہلی جنگ بدر اس میدان میں لڑی گئی جو مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔ مدینہ سے طویل مسافت طے کرکے کفار مکہ وہاں پہنچے تھے،۔
دوسری جنگ احد میں ہوئی جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ہے، اس جنگ میں بھی حملہ آور اہلِ مکہ تھے
تیسری جنگ غزوہ احزاب ہے جس میں عرب تمام دشمنان اسلام بشمول یہود نے مدینہ کا محاصرہ کرلیا تھا، ان تینوں جنگوں سے ایک ہی بات ثابت ہوتی ہے کہ حملہ آور مسلمان نہیں ان کے حریف تھے اور دفاع کی ذمہ داری مسلمان نبھا رہے تھے،
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ مسلمانوں نے طاقت حاصل کرنے کے بعد پہلی مرتبہ جنگ کیلئے نہیں حج کا فریضہ ادا کرنے کیلئے مکہ مکرمہ جانے کا قصد کیا تو اس امر کے باوجود کہ وہ اپنی قوت کے بل پر بآسانی وہاں پہنچ سکتے تھے، اہل مکہ نے انہیں فورا ًداخلہ کی اجازت نہیں دی بلکہ ایک سال بعد کی شرط عائد کردی، آنحضرت صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے محض امن کو قائم رکھنے کیلئے اہلِ مکہ کی جملہ شرائط کو قبول کرلیا۔
حضور اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی امن پسندی کا اس سے بڑا شاہکار وہ مرحلہ ہے جب آپ مسلمانوں کے لشکر عظیم کے ہمراہ فاتح کی حیثیت سے اپنے قدیم وطن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو جنہوں نے آپ کو اس شہر سے نکالا تھا انہیں پناہ دیدی، جنگ وخونریزی تو درکنار کسی دشمنِ اسلام کو ایک خراش تک نہیں لگی، ان کی جانیں اور املاک محفوظ رہیں، اس سے بڑھ کر اسلام کی امن پسندی اور پیغمبر اسلام صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی انسانیت نوازی کا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے؟
اسلامو فوبیا میں مبتلا مغربی اقوام بھی مذکورہ بالا تمام حقائق سے واقف ہیں لیکن اسلام کی مقبولیت انہیں اس پر مجبور کررہی ہے کہ وہ اسلام کیخلاف جارحانہ رویہ اپنائیں ، ان کے نزدیک دنیا میں کمیونزم کی شکست کے بعد اسلام ہی سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ آج یورپ وامریکہ میں ہزاروں کی تعداد ہر سال اسلام قبول کررہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میںہزار سے زیادہ امریکی فوجی مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں۔ یہ کسی طرح کے جبر یا ترغیب کا نتیجہ نہیںبلکہ اسلامی تہذیب، روایات اور اصولوں کی خوبیوں کے اثرات ہیں۔ اسلام کی خوبیاں جوں جوں اجاگر ہورہی ہیں، لوگ اسی قدر اس کے گرویدہ بن رہے ہیں، جھوٹ، الزام تراشی یا پروپیگنڈہ کی کوئی عمر نہیں ہوتی ، اِنہیں بالآخر سچائی کے آگے دم توڑنا پڑتا ہے۔اسلامو فوبیا کے چیلنج کا مقابلہ کیلئے اسلام کی خوبیوں اور برکات سے اہل مغرب کو متعارف کراناانتہائی ضروری ہے کیونکہ تجربہ میں یہ بات آرہی ہے کہ جو لوگ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر اس کا مطالعہ شروع کردیتے ہیں ، وہ بہت جلد اسے قبول کرلیتے ہیں اور دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں کہ مغرب کا آزاد خیال انسان اپنی آزاد روی کو چھوڑ کر ایک پابند مذہب کو کیوں اپنا رہا ہے ۔ مغرب کے دانشور، اِس گتھی کو سلجھانے میں اس لئے بھی ناکام ہیں کہ وہ اسلام کو اول تعصب کی نظر سے دیکھتے ہیں دوم تحفظِ ذہنی کیساتھ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں، بحیثیت مجموعی اسلام کی دعوت یا اس کا مثبت تعارف ہی وہ وسیلہ ہے جواسلامو فوبیا کی مہم کا کارگر تدارک کرسکتے ہیں۔ اس لیے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ جس طرح طرح بھی اسلام کی آواز کو مغرب تک پہنچا سکتا ہے پہنچائے ،وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہو یا قلم کے ذریعے ۔ہمیں اپنا کردار اداکرنا ہے ۔اللّٰلہ تعالیٰ اسلام اور عالم اسلام کی حفاظت فرمائے (آمین یارب العالمین )

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔