صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
منگل 23 جولائی 2019 

صلہ رحمی پُر سکون معاشرے کی اہم ضرورت

مولانا رضوان اللّٰلہ پشاوری | جمعہ فروری 2019 

دین اسلام میں صلہ رحمی کے فضائل اور قطع رحمی پر بہت ساری وعیدیں بیان کی گئی ہیں،صلہ رحمی کا نبھانا ایک پرسکون معاشرے کی اہم ضرورت ہے،اسلام انسانوں کا ایک انتہائی باہمی رحم و کرم اور عطف و مہر بانی والا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کی قیادت و سیادت محبت و بھائی چارے کے ہاتھ میں ہو ۔ اور خیر و بھلائی اور عطا و کرم کا اس پر راج ھو ، اور خاندان معاشرے کی اکائی ھوتا ہے ۔ جو کہ اللّٰلہ کے خوف و تقوی اور صلہ رحمی کے نتیجہ میں سعادت و خوشحالی پاتا ہے ۔ اسلام نے خاندان کی جڑیں مضبوط کرنے اور اس کی عمارت کو پائدار بنانے کا خاص اہتمام کیا ہے ۔
صلہ رحمی قرآن و سنت کی روشنی میں : 
اللّٰلہ کی توحید اور والدین کی اطاعت کے حکم کے ساتھ جس چیز کا حکم دیا گیا وہ یہی صلہ رحمی ہی ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے : اللّٰلہ کی عبادت و بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آ¶ اور قرابت داروں سے بھی حسن سلوک کرو( النسائ)
نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم نے عبادات میں توحید الہی اور نماز و زکوة کے ساتھ ہی صلہ رحمی کو بھی شمار فرمایا ہے، چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰلہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ھوا اور کہنے لگا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللّٰلہ کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو اور صلہ رحمی ( رشتوں کو قائم ) کرو ( متفق علیہ )
پہلی امتوں کو صلہ رحمی کا حکم : 
ہم سے پہلی امتوں کو بھی رشتے داریوں کو قائم و بحال رکھنے کا حکم تھا ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے : اور جب ھم نے بنی اسرائیل سے یہ عھد لیا کہ تم اللّٰلہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، اور قرابت داریوں کو بحال رکھنا( البقرہ )
وصیت مصطفی صلی اللّٰلہ علیہ و سلم : 
نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم نے صلہ رحمی کی وصیت فرمائی تھی ،چنانچہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللّٰلہ عنہ فرماتے ہیں :میرے خلیل صلی اللّٰلہ علیہ و سلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں صلہ رحمی کروں اگر چہ رشتہ دار میرے ساتھ بے رخی کا سلوک ہی کیوں نہ کریں ( معجم طبرانی کبیر ) 
علامات ایمان : 
قرابت داروں سے تعلقات جوڑنا اور صلہ رحمی کرنا ایمان کی نشانی ہے ۔نبی صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : جو شخص اللّٰلہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے ( متفق علیہ )
اللّٰلہ تعالی نے قطع رحمی پر قریش کی مذمت فرمائی ہے ،چنانچہ ارشاد الہی ہے : یہ تو کسی مسلمان کے حق میں کس رشہ داری یا عھد کا مطلق لحاظ نہیں کرتے (التوبہ) 
والدین سے حسن سلوک :
صلہ رحمی قائم کرنے کے لئے سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی و حسن سلوک کریں ۔ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا : اے اللّٰلہ رسول صلی اللّٰلہ علیہ و سلم ! والدین کے فوت ہو جانے کے بعد بھی میرے لئے کوئی ایسا کام ہے کہ میں ان کے ساتھ حسن سلوک کر سکوں ؟ نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم نے فرمایا : ہاں ، ان کے لئے رحمت کی دعائیں مانگو ،ان کے لئے اللّٰلہ سے مغفرت و بخشش کرو اور ان کے بعد ان کے عہد و پیمان کو پورا کرو ، اور اپنے ان قرابت داروں سے رشتہ قائم رکھو جن کا تعلق تم سے صرف والدین کی طرف سے ہی ہے( ابودا¶د )
رحم، رحیم و رحمن : 
ًاللّٰلہ تعالی نے رحم کو پیدا فرمایا اور اس کا نام اپنے اسم گرامی سے نکالا اور ہمارے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص صلہ رحمی کرے گا میں اسی سے اپنا تعلق رحمت قائم رکھوں گا اور جس نے اس ذات رحیم نے تعلق پیدا کر لیا اس کے گھر میں ہر طرح کی بھلائیاں جمع ھو گئیں ۔ اور اس سے کوئی اس تعلق کو ختم نہیں کروا سکتا ۔ اور جسے اللّٰلہ جبار نے بے تعلق و دم کٹا کر دیا ۔اسے کوئی شخص بلندی و سرخروئی نہیں دے سکتا اور وہ ذلت و خواری ( غم و اندوہ ) میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے ،اللّٰلہ رب العزت کا ارشاد ہے : جسے اللّٰلہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت و تکریم نہیں دے سکتا ( الحج) 
قرابت داروں سے نرمی کا حکم الہی :
اللّٰلہ تعالی نے قرابت ( رشتہ) داروں کے ساتھ بھی اسی طرح رافت و نرمی اور شفقت و محبت کرنے کا حکم فرمایا ہے : جیسا کہ ہم مسکینوں کے ساتھ نرمی و شفقت سے کام لیتے ہیں ۔ارشاد الہی ہے : ”اور قرابت داروں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو“ ۔ 
مسکین قرابت دار کا پہلا حق : 
صدقہ سب سے پہلے جسے دیا جائیگا وہ ایسے قرابت دار ہیں جو مسکین بھی ہوں ، حضرت ابوطلحہ رضی اللّٰلہ عنہا نے اپنا باغ صدقہ کیا تو نبی صلی اللّٰلہ علیہ و سلم نے فرمایا : میں سمجھتا ھوں کہ اس باغ کو تم اپنے قرابت داروں پر صدقہ کردو تو حضرت طلحہ رضی اللّٰلہ عنہ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچا زادوں پر صدقہ کر دیا ۔( متفق علیہ) 
حضرت علی رضی اللّٰلہ عنہ فرماتے ہیں : میں اپنے بھائیوں میں سے کسی بھائی کے ساتھ صلہ رحمی کروں ، یہ چیز مجھے بیس درھم صدقہ کرنے سے بھی زیادہ محبوب ہے،قرابت داروں پر خرچ کرنے والا شخص سخی اور صاحب جود و کرم ہے ۔ امام شعبی فرماتے ہیں : میرے قرابت داروں میں سے جو بھی فوت ھو اور اس پر کسی کا کوئی قرض ھو ، اس کا قرض میں ادا کروں گا۔
پڑوسی کا حق : 
پڑوسی کو بھی قرابت دار شمار کیا گیا ہے اور وہ دوسروں سے بھی زیادہ اہتمام و نگرانی کا مستحق ہے، چنانچہ ارشاد الہی ہے : اور قرابت دارہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھ( ہمنشی) سے بھی حسن سلوک کرو ۔( النسائ)
 صلہ رحمی کے ثمرات و برکات : 
صلہ رحمی پربڑے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کے ثمرات و برکات بہت زیادہ ہیں جو تعمیر حیات میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔ اہل و عیال اور اہل خاندان کے ساتھ محبت کرنا رزق میں فروانی و کشادگی اورعمر میں درازی کا باعث ہے ۔نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے : صلہ رحمی اہل و عیال اور اہل خاندان میں باہمی محبت ، مال میں فروانی اور عمر میں درازی کا باعث ہوتی ہے( مسنداحمد) اور بخاری و مسلم میں ہے :جسے یہ بات خوشگوار لگے کہ اس کے رزق میں اضافہ ہواور اس کی عمر دراز ہو ، اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔( بخاری و مسلم) شارح بخاری امام ابن التین کہتے ہیں : صلہ رحمی اللّٰلہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے اوراس کی نافرمانی سے بچنے کی توفیق پانے کا سبب بنتی ہے اور اس آدمی کے مرنے کے بعد بھی اس کا ذکر خیر لوگوں کی زبانوں پر جاری رہتا ہے ۔ گویا کہ وہ آدمی ابھی مرا ہی نہیں۔ 
صلہ رحمی کی حقیقت : 
احسان کا بدلہ احسان سے دینا برابری کا معاملہ اور مکافات عمل ہے جبکہ صلہ رحمی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے رشتہ دار پر بدلے کی خواہش و انتظار کے بغیر احسان کرے ،نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں برابری کر لے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ رشتہ دار اس قطع تعلقی کریں اور وہ ان سے اپنا رشتہ جوڑ رکھے۔( صحیح بخاری ) 
عبد اللّٰلہ بن محیریز سے پوچھا گیا کہ رشتہ داروں کے حقوق کیا ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اگر کوئی آپ کی طرف آئے تو اس کا خوش دلی سے استقبال کریں اور اگر کوئی آپ سے بے رخی برتے تو آ پ اس کا پیچھا( رشتہ داری کرنا) نہ چھوڑیں ۔ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میرے رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ مجھ سے قطع تعلقی کا رویہ اپناتے ہیں ، میں ان پر نیکی و احسان کرنے کی راہ اپناتا ہوں ، مگر وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ۔ میں حلم و بردباری سے کام لیتا ہوں مگر وہ مجھ پر زیادتی کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللّٰلہ علیہ و سلم نے فرمایا : اگر تو ایسے ہی ہے جیسے تو بتا رہا ہے تو انھیں انگاروں پر لوٹا رہا ہے اور جب تک تم اپنی اسی روش پر قائم رھو گے ۔ اللّٰلہ کی طرف سے تمھارے لئے ایک مدد گار مقرر رہے گا ۔ (صحیح مسلم)
لوگوں کی نظروں سے گرانے والی چیز : 
یہ قطع رحمی ذلت و رسوائی ، ضعف و کمزوری اور تنہائی کا باعث ہے اور یہ غم و اندوہ اور پریشانیاں لاتی ہے ۔ قطع رحمی کرنے والا اخوت و بھائی چارے پر قائم نہیں رہتا ،نہ ہی اس سے وفا کی امید کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کی اخوت میں صدق و سچائی کی توقع کی جاسکتی ہے ،وہ اپنی حالت سے اس بات کیطرف اشارہ دے رہا ہوتا ہے کہ اس سے اللّٰلہ تعالی نے تعلق رحمت توڑ رکھا ہے ۔ لوگوں کی حقارت آمیز تظریں اس کا پیچھا کرتی رہتی ہیں بظاھر چاہے اسے کتنا ہی اعزاز و اکرام سے نوازا جا رہا ہو۔ صحابہ کرام رضی اللّٰلہ عنہم قطع رحمی کرنے والے ساتھ بیٹھنے سے وحشت محسوس کرتے تھے ۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللّٰلہ عنہ فرماتے ہیں : قطع رحمی کرنے والا شخص جب ہمارے پاس سے اٹھ کر چلا جاتا توہمیں خوشی محسوس ہوتی ، اورحضرت عبد اللّٰلہ بن مسعود رضی اللّٰلہ عنہ نماز فجر کے بعد اگر کسی حلقہ درس میں بیٹھے ھوتے تو فرماتے : میں قطع رحمی کرنے والے کو اللّٰلہ کی قسم دیتا ھوں کہ وہ ھم سے اٹھ کر چلا جائے کیونکہ اب ھم اپنے رب سے دعا مانگنے لگے ہیں اور قطع رحمی کرنے والے پر آسمان و رحمت کے دروازے بند کئے جا چکے ہیں۔
و الصلح خیر : 
جس کی کسی رشتہ دار کے ساتھ کوئی عداوت و دشمنی چل رہی ھو اسے چاہیئے کہ فوری طور پر صلہ رحمی شروع کر دے اسے معاف کر دے اور اس کی طرف سے اپنے دل کو صاف کر لے پس جس نے معاف کر دیا اور صلح و صفائی کر لی اس کا اجر و ثواب اللّٰلہ کے پاس ہے ۔ حسن اخلاق کا صلہ رحمی میں بڑا عمل دخل اور اثر ہے قرابت داروں کے ساتھ ادب سے پیش آئیں ۔ جس نے اپنی زبان کی حفاظت کر لی اس نے اپنے نفس کو راحت و سکون میں رکھا لیا ۔اللّٰلہ تعالیٰ ہمیں بھی صلہ رحمی کے فضائل سمجھنے کی توفیقعطافرمائے اور قطع رحمی سے بچائے رکھے(آمین)

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔